بھٹکل:18 ؍ ڈسمبر(ایس اؤ نیوز) پکوان گیس کی قیمتوں میں حکومتوں کی جانب سے مسلسل اضافے سے پریشان عوام کو گیس ایجنسیوں کے ذریعے زائد رقم اینٹھنے کی وجہ سے گیس گاہک کنگال نظر آر ہےہیں۔
گیس گاہکوں اورعوام کی طرف سے یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ تعلقہ کی چند گیس ایجنسیوں کاعملہ پکوان گیس سلینڈر گھر گھر پہنچانے کے لئے گاہکوں سے 40سے 50روپئے تک زائد وصول کررہے ہیں۔ تعلقہ میں کل 5گیس ایجنسیاں ہیں جن کے ذریعے ضرورت مندوں کو وقت پر گھر تک گیس سلینڈر پہنچایاجارہاہے۔ لیکن گیس سلینڈر گھر پہنچانے کے بعد جتنا بل ہوتاہے اس سے زائد رقم لی جارہی ہے اور اس کی کوئی رسید بھی نہیں دی جاتی، اس پر عوام عدم اطمینان کا اظہار کررہےہیں۔
حکومتی ہدایات کے مطابق گیس ایجنسیوں کو پانچ کلومیٹر حدود کے اندر گیس سلینڈر گھر گھر پہنچانے پر کسی طرح کی زائد فیس نہیں لینی ہے۔ البتہ پانچ کلو میٹر کے بعد فی کلومیٹر 1.26روپئے زائد فیس لے سکتےہیں اوراس کے لئے رسید بھی دینا ضروری ہے۔ بھٹکل اور مرڈیشور کے علاقوں میں چند گیس ایجنسیوں کا عملہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتےہوئے زائد رقم اینٹھنے کے متعلق عوامی سطح پر شکایتیں ملنے کی محکمہ تغذیہ اور شہری سپلائی کے افسران نے بتایا ہے کہ وہ اس تعلق سے جانچ کررہے ہیں ۔
پکوان گیس سلینڈر گھر گھر پہنچانےکے بعد سواری کے ڈرائیور فی سلینڈر 915روپئے لے کر رسید دیتے ہیں۔ اکثر مقامات پر 10 سے 15روپئے لئے جاتےہیں تو تعلقہ میں 40سے 50روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں جب کبھی عوام عملے سے پوچھنے کی کوشش کرتے ہیں ہیں تو انہیں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہونےکا بہانہ بتا کر نکل جاتے ہیں۔
ہم سے 40روپئے زائد لئے جاتےہیں :مرڈیشور کے ایشور موگیر نے گیس ایجنسیوں کی طرف سے زائد رقم لئے جانے کے متعلق شکایت کرتےہوئے کہاکہ ہمارا گھر مرڈیشور سے پانچ کلومیٹر کی حدود میں واقع ہے۔ اس کے باوجود گیس ایجنسی کا عملہ ہم سے 40روپئے زائد رقم وصول کرتا ہے۔ جب ہم نے اس سلسلےمیں گیس سلینڈر سپلائی کرنے والی سواری کے ڈرائیور سے پوچھا تو گیس سلینڈر گھر تک پہنچائے بغیر راستے کنارے ہی رکھ کر نکل چلا گیا۔ایشور موگیر نے سوال کیا کہ ایسا کرنے کی صورت میں ہم آخر کس سے شکایت کریں ؟